احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ سنن و نوافل  بجز تراویح گھر پر ادا کرنا افضل ہے۔لہذا جو لوگ گھر پر سنتیں یا نوافل پڑھتے ہیں ان کو اس عمل سے روکنا خلاف سنت ہےالبتہ اگر کسی کو خشوع وخضوع گھر  کے بجائے مسجد میں زیادہ ہوتاہو تو اس کامسجد میں پڑھنا افضل ہے۔ علامہ شامی لکھتے ہیں:والافضل فی النفل غیر التراویح المنزل الالخوف شغل منھا۔والاصح افضلیتہ ماکان اخشع واخلص (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار باب الوتر والنوافل ص ٦٣٨ج١) فتاویٰ دارالعلوم میں ھے: احادیث میں سنن و نوافل کے مکان میں ادا کرنے کی جوکچھ فضیلت وارد ہوئی ہے وہ مشھور و معروف ہے۔اور فقہاء نے بھی سواءے تراویح کے دیگر سنن و نوافل کے مکان میں پڑھنے کو افضل فرمایا ہے۔اور حضرات اکابر حنفیہ مثل حضرت محدث و فقیہ گنگوھی کا عمل اسی پر دیکھا گیا۔(فتاویٰ دارالعلوم ج ٤ ص ٢٠٩) فقہاء نے اس کی تصریح کی کہ جس جگہ خشوع وخضوع زیادہ حاصل ہو اس جگہ نوافل و سنن پڑھنا افضل ہے۔جیسا کو در مختار کی عربی عبارت سے واضح ہوتا ہے۔

Comments

Popular Posts