غزل
ھے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپھر کہیں بد مزاج سی شام ھے
یوں ھی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو
یہ شرافتیں نہیں بی غرض انہیں آپ سے کوئی کام ہے
نہ اداس ہو نہ نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر
کیی سال بعد ملے ھیں ھم ترے نام آج کی شام ہے
کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاوں سا
ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے
ھے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپھر کہیں بد مزاج سی شام ھے
یوں ھی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو
یہ شرافتیں نہیں بی غرض انہیں آپ سے کوئی کام ہے
نہ اداس ہو نہ نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر
کیی سال بعد ملے ھیں ھم ترے نام آج کی شام ہے
کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاوں سا
ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے
Comments
Post a Comment